18 اکتوبر 2010 - 20:30

مدرسہ فیضیہ کے سامنے میدان آستانہ میں نائب امام زمانہ (عج) سے اہل قم کا عظیم اظہار مودت؛ رہبر معظم نے قم کے علماء، فضلاء اور عوام کے عظیم اجتماع سے خطاب کیا۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، نے حاضرین کو امام رؤف حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے مبارکباد پبش کرتے ہوئے شہر قم کو "علم و جہاد و شہادت" کا شہر قرار دیا اور فرمایا کہ اس شہر کی بنیاد بصیرت پر مبنی جہادی تحریک پر رکھی گئی تھی اور قم تاریخ کے تمام مراحل میں اہل بیت علیہم السلام کے معارف کا عظیم مرکز رہا ہے اور معاصر دور میں بھی برترین اسلامی اور الہی معارف و تعلیمات کے سرچشمے کی حیثیت سے عالم اسلام کے مغرب و مشرق کو اپنے بزرگ علماء کی برکتوں اور مجاہدت و بصیرت سے بہرہ مند کررہا ہے۔ آپ نے معاصر تاریخ (یعنی عاشورا سنہ 1383 ہجری / 3 جون 1963 اور 15 جون 1963 کی عوامی تحریک) کے حساس دور میں قم کے عوام کے زندہ جاوید کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قمیوں نے اس اہم دور میں امام خمینی (رحمۃاللہ علیہ) کے قیام کی حمایت کرکے علماء کی تحریک کو علماء تک ہی محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عوامی حلقوں میں فروغ دیا اور جنوری 1978 میں بھی قمیوں نے ہی بصیرت و کیاست کے ذریعے شہنشاہی ستم کی حکمرانی کی جانب سے امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی توہین کی سازش کی گہرائی کا ادراک کرکے اپنے نوجوانوں کے خون کی قربانی دے کر اسلامی تحریک کے ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور اس شہر کو انقلاب کے منشأ اور نقطہ آغاز میں تبدیل کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے قمی عوام کو مخلص و راست باز، صادق و با خلوص و صفا اور قابل تقلید بصیرت سے بہرہ مند قرار دیا اور فرمایا: اگر قمی عوام کی بیداری اور ہوشیاری نہ ہوتی تو اس اہم شہر کے لئے دشمن کی سازشیں آسانی سے ناکام نہ ہوتیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے قم کے شہر مقدس کے عوام کی بیداری اور حوزہ علمیہ کے پر برکت وجود کی بنا پر بصیرت و جہاد کا مبدأ و منشأ قرار دیا اور فرمایا: قمی عوام حوزہ اور علمائے اعلام کے قدردان ہیں اور انھوں نے گذشتہ 32 برسوں میں اسلام اور انقلاب کے تحفظ کے میدان میں اپنی پربرکت موجودگی کے عملی ثبوت فراہم کئے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے حوزہ علمیہ قم کے مؤسس حضرت آیت اللہ العظمی عبدالکریم حائری رحمۃاللہ علیہ سے لے کر حضرت آیت اللہ العظمی سید حسین بروجردی رحمۃاللہ علیہ تک نیز آیت اللہ العظمی سید محمد رضا گلپائگانی، حضرت آیت اللہ العظمی محمدعلی اراکی، حضرت آیت اللہ العظمی سید شہاب الدین مرعشی نجفی اور حضرت آیت اللہ العظمی محمد تقی بہجت رحمۃ اللہ علیہم جیسے حالیہ دور کے بزرگ اور با بصیرت مراجع تقلید کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج بھی بحمد اللہ مراجع تقلید بزرگ مراجع تقلید اور اہم و نامی گرامی فضلاء حوزہ علمیہ قم میں موجود ہیں جنہوں نے حوزہ علمیہ قم کو برکتوں کا سرمایہ اور مجاہدتوں کا مظہر بنادیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: شہر قم ایران کا مذہبی ترین شہر ہے اور حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ایک عظیم فقیہ اور عظیم الشأن دینی عالم ہیں اور اس مذہبی شہر کے عوام نے ایک فقیہ عظیم الشأن کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی بنیاد رکھی اور یہ امر ملت ایران کے انقلاب کی دینی ماہیت و تشخص کی ناقابل انکار علامت ہے چنانچہ اس انقلاب کو غیر دینی انقلاب ثابت کرنے کی کوششیں بیہودہ ہیں اور پھر دشمنان اسلام نے انقلاب کے دینی تشخص اور اس کے دینی اثرات کا ادراک کرکے اپنی پوری قوت کو اسی سعادت بخش ماہیت پر ضرب لگانے پر مرکوز کی ہوئی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ عوام کی دین و دیانت اور وفاداری پر ضرب لگانا دنیا کی جابر قوتوں کا بنیادی مقصد تھا اور اگر اسلامی انقلاب میں دین کا عنصر نہ ہوتا تو انقلاب کے راہنما بعض مراعاتیں حاصل کرکے دشمن کے سامنے سرتسلیم خم کرتے تا ہم اسلام ظالم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور عدل و انصاف، آزادی، معنویت، ترقی اور پیشرفت کا تحفہ ساتھ لاتا ہے اسی بنا پر نظام اسلامی کے راہنما ابھی تک استکبار کے سامنے پسپا نہیں ہوئے اور اور اس کے بعد بھی دین ہی کی برکت سے اسلام اور انقلاب کے دشمنوں کا مقابلہ جاری رکھیں گے۔ آپ نے دینی حقائق کو کمزور کرنے اور ان کا انکار کرنے کے سلسلے میں بین الاقوامی استبداد و آمریت کی مختلف النوع سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: سلمان رشدی کا ماجرا، ہالی ووڈ کی سینکڑوں دین مخالف فلمیں، توہین آمیز خاکے اور حال ہی میں قرآن سوزی جیسے واقعات دشمنان اسلام کی ناکام کوششوں کا حصہ ہیں جبکہ [عالم اسلام] کے اندر بھی مغربیوں کے مقلدین بےراہروی، مادر پدر آزادی، جھوٹے عرفانوں اور عرفان کے مشابہ حرکتوں کو فروغ دے کر عوام ـ بالخصوص نوجوان نسل ـ کے دینی عقائد کو سست کرنے کے درپے ہیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسی سلسلے میں اپنی قوتوں کو تقویت پہنچانے اور ان قوتوں پر بھروسہ کرنے، بصیرت کے روز افزوں فروغ اور خدا کے وعدوں پر اعتماد کرنے کو حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے اہم ترین دروس قرار دیا اور فرمایا: امام رحمۃاللہ علیہ نے ہمیں سکھایا کہ اگر مؤمنانہ انداز سے ڈٹ کر استقامت کی راہ اپنائیں اور صحیح تدبیر کریں اللہ کی نصرت قطعی طور پر تمہیں حاصل ہوکر رہے گی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے نظام اسلامی پر عوام کا ایمان ضعیف کرنے کو دشمن کی سازشوں کا دوسرا ہدف قرار دیا اور فرمایا: دین کے عنصر کے علاوہ عوام کی وسیع موجودگی اور حمایت نظام اسلامی کے راہنماؤں کی استقامت کا سہارا ہے اور دشمن نے بھی اسی بنیاد پر عوام کی وفاداری کو ہدف بنا رکھا ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عوام کو مأیوس کرنے، حکومت کے عہدیداروں ـ خاص طور پر انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں ـ کی نسبت بدگمانی پھیلانے، ملک کی بعض کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور انجام شدہ اقدامات اور حاصل شدہ پیشرفت کو نظر انداز کروانے کی نیت سے تشہیراتی مہم چلانا، نظام اسلامی کے مخالفین کی بعض روشیں ہیں جن کے ذریعے وہ عوام کے اعتماد اور وفاداری کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ رہبر معظم نے فرمایا: جیسا کہ گذشتہ 32 برسوں کے دوران دین اور عوامی وفاداری کو نقصان پہنچانے کی نیت سے دشمن کی تمام تر سرمایہ کاریاں، منصوبے اور سازشیں قطعی طور پر ناکام ہوئی ہیں اس کے بعد بھی اس طرح کی سازشیں اور منصوبے اور اقدامات ملت اور نظام اسلامی کے دشمنوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گے۔رہبر انقلاب اسلامی نے گذشتہ سال عاشورا کی توہین اور فتنے کے سامنے عوام کی بصیرت سے بھر پور اور تیزرفتار رد عمل کو سازشی قوتوں کی مسلسل ناکامیوں کا ایک نمونہ قرار دیا اور فرمایا: یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ عوام کے دینی جذبات اور ان کی معرفت اور وفاداری روز بروز زیادہ اور گہری ہوئی ہے۔ آپ نے گذشتہ سال صدارتی انتخابات میں 4 کروڑ ووٹروں کی شرکت کو اسلامی نظام پر عوام کے اعتماد اور اس انقلاب اسلامی سے ان کی وفاداری کے اثبات کے لئے عوامی ریفرینڈم قرار دیا اور فرمایا: دشمن یہ حقائق دیکھ کر غیظ و غضب میں مبتلا ہوا اور اس نے فتنہ انگیزی کے ذریعے اس قومی حضور کے اثرات کو ناکارہ بنانے کی کوشش کی مگر عوام فتنے کے سامنے بھی ڈٹ گئے اور اپنی استقامت کے ذریعے دشمن کو ایک بار پھر ناکامی کا منہ  دکھایا۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: 2009 کے فتنے نے عوامی استقامت اور بیداری کو سیاسی اور سماجی جراثیموں کے سامنے  محفوظ کردیا اور انتخابات کے بعد شروع ہونے والے فتنے نے دشمن کی توقعات کے برعکس ملت ایران کی بصیرت میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے "اسلام، علمائے اسلام کے بغیر" کے عنوان سے استکباری محاذ کی چالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: انھوں نے عوام کے امور اور ان کی بیداری میں علمائے اسلام کے کردار کا ادراک کرلیا ہے اور اسی بنا پر علمائے اسلام کے بغیر والے اسلام کے فروغ کے درپے ہیں لہذا دشمن کی ان سازشوں کا بھی کیاست کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے دین و سیاست کی جدائی اور سیاست کے بغیر والے اسلام کی ترویج کو استکبار کی دوسری چال قرار دیا اور فرمایا: اسلامی نظام کا سامنا کرنے کے لئے دشمن کا نقشہ راہ (روڈ میپ) اور کلی منصوبہ ہمارے سامنے بھی نقشہ راہ رکھتا ہے اور وہ یوں کہ وہ جس کسی مسئلے پر حملہ کرتے ہیں اور جس مسئلے کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ہمیں اسی پر تأکید کرنی چاہئے اور اسی کی بنیاد پر کام کرنا چاہئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران پر معاشی پابندیوں کی شدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایران کے ملک و ملت کو انقلاب اسلامی کے ابتدائی ایام سے ہی پابندیوں کا سامنا ہے اور ملت ایران پابندیوں کا مقابلہ کرنا جانتی ہے اسی وجہ سے موجودہ پابندیاں بھی ـ جو عوام پر دباؤ بڑھانے اور انہیں اسلامی نظام سے الگ کرنے کی غرض سے مسلط کی گئی تھیں ـ حکام اور عوام کے کہنے کے مطابق اور جیسا کہ عمل کے میدان میں ثابت ہوچکا ـ عوام کی زندگی پر قابل اعتنا اثر نہ ڈال سکے ہیں۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: جس قوم نے سنہ 1980 کے عشرے میں ان مشکلات، دشواریوں اور کمیوں و نقائص کو برداشت کیا آج عظیم ترقی کی روشنی میں اپنے مستقبل پر کہیں زیادہ اعتماد اور بھروسہ رکھتی ہے اور اسی بنا پر سازشی قوتوں کے سامنے استقامت کرتی ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آخر میں عوام اور حکومت کے رویئے کی ضروریات کے عنوان سے بعض بنیادی نکات کی طرف اشارہ کیا جن میں سے پہلا نکتہ تھا۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: خواص اور عوام قومی وحدت کو سنجیدگی سے اپنا مطمع نظر قرار دیں تاہم وحدت کے بارے میں صرف زبانی باتیں کرنا کافی نہیں ہے کیونکہ قومی وحدت کے اپنی معیارات اور پیمانے ہیں جن کی پابندی کرنا لازم ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ سے عوام اور خواص کی روز افزوں یکجہتی کو دوسرا اہم نکتہ قرار دیا جبکہ دینی ایمان، نوجوانوں کی فکری ضروریات پوری کرنا اور جدید تقاضوں کے مطابق ان کے شبہات اور سوالات کا جواب فراہم کرنا تیسرا اہم نکتہ تھا اور علمائے اسلام اور دینی و علمی حلقوں کا درست تعارف کرانے کے لئے علماء، دانشوروں اور آگاہ افراد کی کوشش، بصیرت اور دشمن شناسی کے حصول کے حوالے سے نوجوانوں کی محنت، علمی و سائنسی شعبے میں قوم و ملک کی پسندیدہ پیشرفت کو تیزرفتار بنانے کی ضرورت، عوام کی ناراضگیوں اور فکرمندی کے عوامل کے خاتمے اور عوامی مسائل حل کرنے کے حوالے سے حکومت کی طرف سے ضروری اقدامات کی ضرورت دیگر اہم نکات تھے جن پر رہبر انقلاب اسلامی نے تأکید فرمائی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آخر میں شہر قم کے حوالے سے بین الاقوامی نگاہوں کی حساسیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عالم اسلام کا عظیم ترین حوزہ علمیہ اور اس شہر کے زیارتی اور معنوی مراکز قم کی قومی اور بین الاقوامی ظرفیتوں میں سے ہیں۔ آپ نے فرمایا: شہنشاہی حاکمیت کے دور میں قم کو محروم اور پسماندہ رکھا گیا تاہم انقلاب کے بعد ـ بالخصوص حالیہ برسوں میں ـ یہ مسائل حل کرنے کے سلسلے میں عظیم کام انجام پائے ہیں لیکن پینے کی پانی جیسے مسائل پوری ط